Friday, December 30, 2022
ایک وقت تھا جب ہمارے گاؤں کے سب لوگ بس میں بیٹھ کر بازار جایا کرتے تھے موٹر سائیکل کسی ایک آدھ گھر میں ہوتی تھی نہر کے کنارے سنگل سڑک کے دونوں اطراف شیشم کے درخت 🌲 ایک خوبصورت جال بناۓ کھڑے ہوتے تھے جن پر ہر وقت چڑیوں کی چہچہاہٹ ایک الگ میوزک پیش کرتی رہتی تھی ، اُس سڑک پر چلتی بس جب اپنا مخصوص ہارن بجاتی تو گھروں میں پتہ چلتا کہ پہلا ٹائم گزر رہا ہے کسی کو اپنے ہاں مہمان آنے کی اطلاع ہوتی اور کسی کو اپنے گھر بیٹھے مہمان کو روانہ کرنے کی فکر ہوتی اور پھر ایک ہوا چل گئ جس نے اپنے زور سے وقت بدل دیا ، اور پھر روڈ بدل گۓ لوگ بدل گۓ ،محبتیں بدل گئی،بسیں بدل گئیں ،سائیکلیں ٹھکانے لگ گئ،درخت کٹ گۓ،چِڑیاں اُڑ گئیں ،چہچہاہٹ تھم گئی ،پیدل والے رستوں پر گھاس ہو گئ ،امی ماما میں بدل گئ ،ابو پاپا کا روپ اختیار کر گۓ ،اور پھر میرے گاؤں کے لوگ آپس میں بیگانے ہو گۓ، ایک دوسرے کی پرواہ ختم ہو گئی، اور یوں ایک حسِین زمانے کا اختتام ہو گیا۔۔۔۔
Thursday, December 29, 2022
Wednesday, December 28, 2022
چئیرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک کی چینی سفیر نونگ رونگ سے ملاقات٭ سیلاب زدہ علاقوں میں جاری بحالی و تعمیر نو کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال ہوا٭ چئیرمین این ڈی ایم اے نے چینی حکومت کا سیلاب کے دوران بھرپور تعاون کا شکریہ ادا کیا٭ دونوں نے ٹیکنالوجی کے تبادلے، ابتدائی وارننگ سسٹم کے قیام اور رسپانس میکنزم پر مشترکہ تعاون پر زور دیا٭ این ڈی ایم اے اور چینی وزارت برائے ایمرجنسی منیجمنٹ کے مابین ایم او یو پر تبادلہ خیال کیا گیاChairman NDMA Lieutenant General Inam Haider Malik meeting with Chinese Ambassador Nong Rong* There was a discussion on the ongoing rehabilitation and reconstruction activities in the flood affected areas.Chairman NDMA thanked the Chinese government for its full cooperation during the flood. Both emphasized joint cooperation on technology exchange, establishment of early warning system and response mechanism.* MoU was discussed between NDMA and Chinese Ministry of Emergency Management
جب دسمبر کی آدھی رات کو پارا منفی 50 - 37 دکھا رہا ہو اور اس وقت اس اندھیری رات میں فوجی سپاہی سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہوں۔ جب سرد ہوا کے جھونکے چہرے پر اپنے ناک اور کان کے ہونے کا احساس ختم کر دیتے ہیں۔ جب خاموشی اتنی خاموش کہ وحشت اس کی جگہ لے لیتی ہو تو یہ سپاہیوں کا جذبہ حب الوطنی ہے جو ان کے حوصلے بلند رکھتا ہے یہ پاک فوج کی تربیت ہے جو انہیں ثابت قدم رکھتی ہے۔سیاچن میں موجود فوجی جوانوںتمہیں وطن کی ہوائیں سلام کہتی ہیں
کبھی آو تو سہی بہاولپور دیکھو تو زرا کیسا ہے میرا چولستانتمہیں کس نے کہا مری جاو،مری میں تو بندر رہتے ہیں۔بلند پہاڑ ہیں۔آنکھیں ہیں کہ پہاڑ کی دوسری جانب دیکھ ہی نہیں پاتیں۔جس کی وجہ سے انسان تنگ نظر ہو جاتا ہے۔کبھی آو نہ میرے چولستان تیری آنکھوں کی پیاس بجھاوں تیری نظر کو وسعت دوں۔کبھی آو نا دیکھو تو ذرا میرے چولستان میں ہوٹل نہیں ہیں کیونکہ یہاں مہمانوں کو پیسے لے کر کھلایا نہیں جاتا۔آ تو سہی دیکھ تو ذرا میرے چولستان جیسی جگہ دنیا میں کہاں۔جہاں جنگل بھی ہو اور نہر بھی،ویرانہ بھی ہو اور ایشیاء کا بڑا پارک بھی،آبادی بھی ہو اور جنگلی حیات بھی۔ایک شب میرے صحرا میں گزار کر تو دیکھ،ایک رات یہاں خیمہ لگا کر تو دیکھ،اس کی ٹھنڈی ریت و خاموشی تجھے جوانی کی بہاریں پھر سے لٹا نہ دے تو کہنا۔جس موسم میں تم دمے کے مریضوں کی طرح سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے کبھی آو اس موسم میں، رات کے پچھلے پہر دکھن کی ہوا تمہیں ماں کی طرح سلا نہ دے تو کہنا۔کبھی آو تو سہی تمہیں شام کے وقت جانوروں کے گلے میں بندھی ٹلیوں کی سروں اور بانسریوں کی آوازوں سے دنیا کے ہر غم سے بے غم نہ کر دوں تو کہنا۔آ تجھے صحرا کی چاندنی کا پرکیف منظر اور صحرا کی وسعت دکھا کر،تیری تنگ نظری کو وسعت میں بدلوں۔انتخاب:
Subscribe to:
Posts (Atom)